بورڈ آف ڈائریکٹر

ایچ .ای. یحییٰ بن سید بن عبداللہ الجبری

چیئرمین خصوصی اقتصادی زون ،دوقم،سلطنت عثمان

چیئرمین –پاک عمان بورڈ آف ڈائریکٹر

یحییٰ بن سید بن عبداللہ الجبری  بین الاقوامی کمپنیوں اورسرمایہ کارانہ بینکاری میں وسیع تجربے کے حامل ہیں۔انہوں نے امریکا کے اعلیٰ ترین اسکولوں میں تعلیم حاصل کی ہے،جس میں کیلوگ اسکول آف  مینجمنٹ ،ہارورڈ بزنس اور ڈارڈن یونیورسٹی شامل ہیں،جہاں سے انہوں نے  ایڈوانس مینجمنٹ پروگرام میں ڈگری حاصل کی ہے۔
یحیٰ بند سید بن عبداللہ الجبری عمان کے اعلیٰ کاروباری اور فائنانس کے شعبے میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، جیسے کے عمان انویسٹمنٹ فنڈ کے بورڈ ممبر،چیئرمین پاک عمان انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور چیئرمین کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی۔
اپنے کیرئیر کےآغاز میں آپ نے عمان میں انٹرنیشنل بینک(سابق) میں جنرل مینیجر کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیے ہیں،جہاں  بینک کے مکمل آپریشنل کاموں کے ذمہ دار تھے،اس میں 81مقامی اور چار بیرون ملک برانچز شامل تھی،جو کہ انڈیا اور پاکستان میں قائم تھی۔
جون 1999 میں انہیں کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی کا چیئرمین بنادیا گیا،یہ ایک ریگولیٹری ادارہ ہے اور کیپیٹل مارکیٹ کو بہتر بنانے کے لیے کام کررہا ہے،جو سیکیورٹی مارکیٹ میں کام کرنے والوں کے درمیان پیشہ ورانہ طریقہ کار کو فروغ دینے اور اپنے آپریشن کو ریگلولیٹ کرتا ہے تاکہ قومی معیشت کی بہتری کیلیے صارفین  کو ناقص اور غیر منصفانہ  طرز عمل سے محفوظ رکھا جاسکے۔اس وقت وہ ہوکاماہ انسٹیٹیوٹ آف کارپوریٹ گورننس کے رکن ہیں۔
اکتوبر2011میں انہیں دقوم خصوصی اقتصادی زون اتھارٹی کا چیئرمین بنایا دیا گیا،جو اہم شمالی الوسطیٰ صوبے کی اہم پر وقوع پذیر ہے۔ یہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے،جو کہ معاشی اور اقتصادی ترقی کی شرح کو بہتر بنانے میں کوششیں کررہا ہے، خاص طور پر غیر ملکی تجارت، سیاحت ،فشریز اور عمانی شہریوں کے لیے نوکریوں کی تخلیق کے شعبے شامل ہیں۔

​محمد جمال ناصر

چیف فائنانس آفیسر

jamal.nasir@pakoman.com


جمال ناصر  کے پاس مالیات،اکاؤنٹس،آڈٹ،ٹیکس اور بجٹ کے شعبوں میں 23سال کا وسیع تجربہ ہے۔ پاک عمان میں شمولیت سے قبل ناصر این ڈی ایل سی-آئی ایف آئی سی بینک لمیٹڈ کیساتھ منسلک تھے۔ ان کی ذمہ داریوں میں مختلف اکاؤنٹنگ سسٹم کے نقشے بنانا، کمپنی کے ٹیکس کی منصوبہ بندی اور بجٹ بنانا شامل ہے۔ اُنہیں نئے اکاؤنٹنگ سسٹم پر عمل در آمد اور مواد کی منتقلی کا عملی تجربہ ہے اور وہ کامیابی کے ساتھ کریڈٹ پورٹ فولیو کا جائزہ مکمل کرچکے ہیں اور قابل اطلاق ریگولیٹری قوانین کے تحت کمزوریوں کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ناصر انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ آف پاکستان کے فیلورکن بھی ہیں

بہاؤالدین خان

مینیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او پاک عمان انویسٹمنٹ کمپنی

ceo@pakoman.com

بہاؤالدین خان نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کیا ہے،انہوں نے34سال تک کئی بین الاقوامی اور مقامی بینکوں میں فرائض سرانجام دیے ہیں۔
بہاؤالدین خان مضبوط آپریشن اور ٹیکنالوجی میں علم و فراست رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کمپلیانس،آئی ٹی، تجارتی مالیات،خزانہ سمیت شعبوں میں  مہارت ثابت کی ہے،جبکہ دیگر شعبوں میں انہیں مہارت حاصل ہے۔ بہاؤالدین نےبین الفلاح سے پاک عمان انویسٹمنٹ کمپنی میں شمولیت اختیار کی ہے،بینک الفلاح میں آپ سی او او کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

حامد صلوم مبارک الاتھوبی

سلطنت عمان

ڈائریکٹر ۔پاک عمان انویسٹمنٹ کمپنی

حامد صلوم کو آئل اور گیس کے شعبے میں 19برس کا وسیع تجربہ حاصل ہے، وہ عمان آئل کمپنی کے (او سی سی) کے ڈپٹی فائنانشیل افسر ہیں،یہ ایک کمرشل ادارہ ہے، جسے سلطنت عمان کی سرپرستی میں وزارت خزانہ چلاتی ہے۔
او سی سی کا مقصد عمان کے شہریوں کے مفاد میں قومی معیشت کی بہتر ی میں کردار ادا کرتے ہوئے غیرملکی اور ملکی سرمایہ کاروں کی مدد کرنا ہے۔کمپنی کے عمان کے اندر اور عمان سے باہر کئی توانائی کے منصوبے کام کررہے ہیں جبکہ کمپنی کے ایشیا اوریورپ میں بھی کئی اثاثوں کی مالک ہے۔
ڈپٹی چیف فائنانشیل افسر بننے سے قبل حامد صلوم  اواو سی میں اقتصادی اور کاروباری ریسرچ کے شعبے کے سربراہ  اور حکومت عمانمیں وزارت آبادی، بجلی اور پانی جیسے اہم عہدوں پر فائز تھے۔
وہ پاک عمان کے ساتھ ساتھ متعدد کمپنیوں کے بورڈ کے رکن بھی ہیں، جیسے کہ:عمان فرٹیلائزر کمپنی،صلالح میتھانول کمپنی،دھوفر جنریٹنگ کمپنی، عمان انٹرنیشنل پیٹروکیمیکل انڈسٹریز کمپنی، جی ایس ای پی ایس(جنوبی کوریا)، کمپانیا لوجسٹکا ہائیڈروکاربورس(اسپین) شامل ہیں۔
حامل صلوم نے برطانیہ کی سٹریتھکلائیڈ یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا ہے جبکہ ایسوسی ایشن آف اکاؤنٹنگ ٹیکنیشن سے اکاؤنٹنسی میں ڈپلومہ کیا ہے۔

مصطفیٰ بن علی سلیمان

ڈائریکٹر جنرل۔وزارت خزانہ،سلطنت عمان

ڈائریکٹر ۔پاک عمان انویسٹمنٹ کمپنی

مصطفیٰ بن علی سلیمان برطانیہ کی ایسوسی ایشن آف اکاؤنٹنگ ٹیکنیشن کے1983کے فارغ التحصیل ہیں۔انہوں نے2001میں عرب سوسائٹی آف سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹ سے اے سی پی اے مکمل کیا۔ مصطفیٰ بن علی سلیمان اس وقت وزارت خزانہ میں ٹیکس اکھٹا کرنے والے دفتر کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔
انہیں ٹیکس، مالیات بیان کی تحقیقات،فنڈ مینجمنٹ،غیرملکی کرنسی کی تجارت اور نقد رقم کے انتظام کار میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ مسقط  کی توانائی ترسیل کمپنی ایس اے او سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ہیں، اس سے قبل وہ گلف انٹرنیشنل بینک، بحرین اور البتنا ہوٹلز کمپنی سلطنت عمان کے ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔

زبیر موتی والا

ڈائریکٹر پاک عمان انویسٹمنٹ کمپنی

 
محمد زبیر موتی والا ایک معروف صنعتکار ہیں اور انڈسٹری کے فروغ کے ذریعے سے قومی معیشت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔وہ مختلف عہدوں پر رہ کر کاروباری کمیونٹی کی خدمت کررہے ہیں۔
زبیر موتی والا جنوری2009سے لے کر 2011جولائی تک وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے سرمایہ کاری اورجولائی 2011سے لے کر اکتوبر2013چیئرمین سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ بھی رہے ہیں ۔وہ آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ مل ایسوسی ایشن(سینٹرل) کے چیئر مین بھی ہیں ۔1996میں زبیر موتی والا وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی ٹیکسٹائل اور برآمدات کے رکن بھی رہے ہیں۔
1996-97میں وہ سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے چیئر مین منتخب ہوئے۔ وہ 1997-98تک کونسل آف کراچی انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے چیئرمین   اور 2000میں کراچی چیمبر آف کامرس انڈسٹری کے صدر بھی رہے ہیں۔
وہ مختلف نجی اور عوامی کمپنیوں کے بورڈ کے ڈائریکٹر بھی ہیں، جن میں ورکرز ویلفیئر فنڈاسلام آباد،کراچی الیکٹری سپلائی کارپوریشن، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ،سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ(سائٹ)،ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اتھارٹی،آئی بی اے کراچی، ضیا الدین میڈیکل یونیورسٹی،نیشنل بینک آف پاکستان،کالج آف بزنس مینجمنٹ،ہمدرد یونیورسٹی، سر سید یونیورسٹی آف انجینئیرنگ،بینظر بھٹو شہید یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام اینڈ ٹیکنالوجی، بقائی میڈیکل کالج اسپتال شامل ہیں۔ زبیر موتی والا حکومت پاکستان کے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام ڈیویژن کے مشیر ان میں بھی شامل  ہیں۔
نومبر 2009میں زبیر موتی والا کو ‘سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی’(ایس پی پی آر اے)کابورڈ آف ڈائریکٹر نامزد کیا گیا۔2010فروری  انہیں سندھ میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے بنائی گئی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔
انہوں نے بیرون ملک کئی پاکستانی تجارتی وفود کی قیادت کی ہے،ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور کاروباری فراست کی وجہ سے انہیں ریپلک آف برونڈی کا اعزازی کونسل جنرل مقرر کیا گیا۔